نئی دہلی،07؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)نریندرمودی نے کانگریس اور ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1951 میں پنڈت نہرو نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کو اکھنڈ بھارت (متحدہ بھارت) کے لیے کام کر نے سے روکنے کے لیے آئین میں ترمیم کی تھی، اس سے کانگریس کے جمہوریت مخالف رویے کی حقیقت کا پتہ لگتا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے مرکزی وزیر ارون جیٹلی کے اس مضمون کو ری ٹویٹ کیا، جس میں انہوں نے کانگریس اور پنڈت جواہرلال نہروکو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ مضمون ارون جیٹلی نے جن سنگھ بانی ڈاکٹرشیاما پرساد مکھرجی کے یوم پیدائش کے موقع پر لکھا ہے۔
وزیراعظم نے کہا،' ارون جیٹلی جی نے بہت اچھا مضمون لکھا ہے، جس میں انہوں نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی طاقتور اور اکھنڈ بھارت کے تئیں عہدبستگی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے جمہوریت مخالف رویے کو واضح کیا ہے۔
مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے اپنے فیس بک پوسٹ میں آئین میں 1951 میں کی گئی پہلی ترمیم اور 1963 میں کی گئی 16ویں ترمیم کے بارے میں لکھاہے جن میں اظہار رائے کی آزادی پر شرائط عائد کی گئی تھیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ پہلی ترمیم میں ریاست کو اظہار رائے کی اس آزادی کو محدود کرنے کا اختیار دیا گیا جس سے بیرونی ملکوں کے ساتھ ہندستان کے دوستانہ رشتوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں ریاست کسی کے اظہاررائے کو قابل سزاجرم بناسکتی ہے ۔